عشق بھی آج سیاست سے کِیا جاتا ہے
اس کو موسوم تجارت سے کیا جاتا ہے
ٹوٹی تسبیح کے دانوں سے جو بکھریں رشتے
ان کو تنظیم سہولت سے کیا جاتا ہے
قدر جو پاس ہیں کچھ ان کی نہیں، دور ہیں جو
انتظار ان کا ہی شِدت سے کیا جاتا ہے
یہ ہمارا ہی قرینہ ہے کہ دشمن کا بھی
خیر مقدم گل و نکہت سے کیا جاتا ہے
کیا یہی پاسِ عبادت ہے کہ رب کے آگے
سجدہ بھی آج ضرورت سے کیا جاتا ہے
دیکھنا پیار سے ماں باپ کو ہے حکمِ نبیؐ
اس کو تعبیر عبادت سے کیا جاتا ہے
کیا ہوا شہرِ محبت کو سلیم آج کہو
کیوں اسے رُسوا بغاوت سے کیا جاتا ہے
سلیم رضا
No comments:
Post a Comment