Monday, 13 September 2021

دھواں اٹھ رہا ہے جو باہر میاں

دُھواں اُٹھ رہا ہے جو باہر میاں

سُلگتا ہے کچھ اپنے اندر میاں

میں خُود تو بھٹکنے کا قائل نہیں

گُھماتا پھرے ہے مقدر میاں

گُماں بیٹھے بیٹھے یہ اکثر ہوا

گیا ہے ابھی کوئی اُٹھ کر میاں

یہ مانا کہ دیوار و در ہیں وہی

مگر اب یہ لگتا نہیں گھر میاں

مِرے رُخ پہ تحریر کیا کچھ نہیں

کبھی کوئی دیکھے تو پڑھ کر میاں

کبھی خُود کو دھرتی سے بھی جوڑئیے

اُڑیں گے کہاں تک فلک پر میاں

بس اک رسم تھی جو نبھاتے رہے

ہوئی کب خُوشی اس سے مل کر میاں


احسن رضوی

No comments:

Post a Comment