Monday, 13 September 2021

ہم خوف میں ہیں اپنا اثر جانے کے ڈر سے

ہم خوف میں ہیں اپنا اثر جانے کے ڈر سے

شہرت کی بلندی سے اتر جانے کے ڈر سے

سہمے رہے ہیں تنہا بکھر جانے کے ڈر سے

بھٹکا کے ہم راہ میں گھر جانے کے ڈر سے

باقی نہ رہا لطف کوئی زندگی میں اب

بس یوں ہی جیے جا رہے مر جانے کے ڈر سے

دنیا کو جھکا لیتی ہے قدموں میں وہ ایک دن

دستار جو جھکتی نہیں سر جانے کے ڈر سے

ہے جوش مگر ہوش کا دامن نہیں چھوڑا

کیوں کاٹ دیں ہم پاؤں ٹھہر جانے کے ڈر سے

دیتی ہے صدائیں ہمیں بھی عشق کی سرحد

ٹھہرے ہوئے ہیں حد سے گزر جانے کے ڈر سے

ہیں درد کے ہی دم سے میری شاعری زندہ

زخموں کو کریدا کیے بھر جانے کے ڈر سے


غزالہ تبسم

No comments:

Post a Comment