ہم خوف میں ہیں اپنا اثر جانے کے ڈر سے
شہرت کی بلندی سے اتر جانے کے ڈر سے
سہمے رہے ہیں تنہا بکھر جانے کے ڈر سے
بھٹکا کے ہم راہ میں گھر جانے کے ڈر سے
باقی نہ رہا لطف کوئی زندگی میں اب
بس یوں ہی جیے جا رہے مر جانے کے ڈر سے
دنیا کو جھکا لیتی ہے قدموں میں وہ ایک دن
دستار جو جھکتی نہیں سر جانے کے ڈر سے
ہے جوش مگر ہوش کا دامن نہیں چھوڑا
کیوں کاٹ دیں ہم پاؤں ٹھہر جانے کے ڈر سے
دیتی ہے صدائیں ہمیں بھی عشق کی سرحد
ٹھہرے ہوئے ہیں حد سے گزر جانے کے ڈر سے
ہیں درد کے ہی دم سے میری شاعری زندہ
زخموں کو کریدا کیے بھر جانے کے ڈر سے
غزالہ تبسم
No comments:
Post a Comment