خیالی پتنگے مچلتے رہے
دِیے آرزوؤں کے جلتے رہے
سفر کا تسلسل تو قائم رہا
نشاں منزلوں کے بدلتے رہے
اُجالوں کی تائید کر نہ سکے
اندھیروں کے ڈر سے دہلتے رہے
کبھی مثلِ سُورج اُفق سے ظہور
کبھی مثلِ سُورج ہی ڈھلتے رہے
رہِ راستی پر نہ آئے ہمیں
یوں مُرسل، صحیفے بدلتے رہے
نگاہوں میں تصویرِ جنت مگر
رہِ رُوحِ فرسا پہ چلتے رہے
پھسلنےکو حشمت پھسل تو گئے
مگر ہاتھ تا عمر ملتے رہے
حشمت علی انصاری
No comments:
Post a Comment