Monday, 7 November 2016

پچھلے پہر کا سناٹا جب زہر فضا میں گھولے گا

پچھلے پہر کا سناٹا جب زہر فضا میں گھولے گا
کون کسی سے بات کرےگا، کون کسی سے بولے گا
اک نووارد کی آہٹ، پھر من کے تار ہلائے گی
پسِ منظر میں ڈولتا سایہ، آج دریچہ کھولے گا
رات کے راہی کی پلکیں ہیں بھیگی بھیگی شبنم سے
اس حالت میں دن نکلا تو کرنوں کا دل ڈولے گا
رفتہ رفتہ میرے رخ سے زردی بھی اڑ جائے گی
جتنی دیر میں تم آؤ گے،۔ سونا مٹی ہو لے گا
اہلِ وفا کو جنبشِ لب کی کون اجازت دیتا ہے
دور سے تجھ کو دیکھ کے کوئی چپکے چپکے رو لے گا

وفا حجازی

No comments:

Post a Comment