پچھلے پہر کا سناٹا جب زہر فضا میں گھولے گا
کون کسی سے بات کرےگا، کون کسی سے بولے گا
اک نووارد کی آہٹ، پھر من کے تار ہلائے گی
پسِ منظر میں ڈولتا سایہ، آج دریچہ کھولے گا
رات کے راہی کی پلکیں ہیں بھیگی بھیگی شبنم سے
رفتہ رفتہ میرے رخ سے زردی بھی اڑ جائے گی
جتنی دیر میں تم آؤ گے،۔ سونا مٹی ہو لے گا
اہلِ وفا کو جنبشِ لب کی کون اجازت دیتا ہے
دور سے تجھ کو دیکھ کے کوئی چپکے چپکے رو لے گا
وفا حجازی
No comments:
Post a Comment