فصلِ جنوں میں زنجیروں کا حلقہ دیکھنے والا تھا
دیوانے جب گرمِ سفر تھے صحرا دیکھنے والا تھا
وہ مٹی کا کچا گھڑا تھا، لے ڈوبا جو مانجھی کو
ورنہ دریا پار کا یارو! میلہ دیکھنے والا تھا
تُو کہ میری خاطر ایک ذرا سا موڑ نہ کاٹ سکا
شیشے، پتھر، طوق، سلاسل، زنداں، مقتل، دار، صلیب
اہلِ جنوں نے کل جو کھینچا، نقشہ دیکھنے والا تھا
رات کا سینہ دھڑک اٹھا تھا جس کی روشن لہروں سے
ٹوٹنے والے اس تارے کا شعلہ دیکھنے والا تھا
شہرِ وفا کی ساری کرنیں پھوٹ رہی تھیں ماتھے پر
مقتل میں اس نووارد کا چہرہ دیکھنے والا تھا
وفا حجازی
No comments:
Post a Comment