نہال وصل نہیں سنگ بار کرنے کو
بس ایک پھول ہے کافی بہار کرنے کو
کبھی تو اپنے فقیروں کی دل کشائ کر
کئی خزانے ہیں تجھ پر نثار کرنے کو
یہ ایک لمحے کی دوری بہت ہے میرے لیے
قباۓ مرگ ہو یا رختِ زندگی اے دوست
ملے ہیں دونوں مجھے تار تار کرنے کو
بہت سا کام دیا ہے مجھے ان آنکھوں نے
حوالۂ دلِ نا کردہ کار کرنے کو
احمد جاوید
No comments:
Post a Comment