Monday, 7 November 2016

ہماری ہم نفسی کو بھی کیا دوام ہوا

ہماری ہم نفسی کو بھی کیا دوام ہُوا 
وہ ابرِسرخ تو میں نخلِ انتقام ہوا
یہیں سے میرے عدو کا خمیر اٹھا تھا
زمین دیکھ کے میں تیغِ بے نیام ہوا 
خبر نہیں ہے مِرے بادشاہ کو شاید
ہزار مرتبہ آزاد یہ غلام ہوا
عجب سفر تھا، عجب تر مسافرت میری
زمین شروع ہوئی، اور میں تمام ہوا
وہ کاہلی ہے کہ دل کی طرف سے غافل ہیں
خود اپنے گھر کا بھی ہم سے نہ انتظام ہوا
ہوئی ہے ختم در و بام کی کم اسبابی
میسر آج وہ سامانِ انہدام ہوا

احمد جاوید

No comments:

Post a Comment