ہماری ہم نفسی کو بھی کیا دوام ہُوا
وہ ابرِسرخ تو میں نخلِ انتقام ہوا
یہیں سے میرے عدو کا خمیر اٹھا تھا
زمین دیکھ کے میں تیغِ بے نیام ہوا
خبر نہیں ہے مِرے بادشاہ کو شاید
عجب سفر تھا، عجب تر مسافرت میری
زمین شروع ہوئی، اور میں تمام ہوا
وہ کاہلی ہے کہ دل کی طرف سے غافل ہیں
خود اپنے گھر کا بھی ہم سے نہ انتظام ہوا
ہوئی ہے ختم در و بام کی کم اسبابی
میسر آج وہ سامانِ انہدام ہوا
احمد جاوید
No comments:
Post a Comment