محفل ہے اور طرح کی، تنہائی اور ہے
اس شہر کی فضا ہی مِرے بھائی اور ہے
نکلا نہ کوئی چاک مِرے پیرہن کے بیچ
اس ہاتھ کی گرفتِ زلیخائی اور ہے
کیا بانس لے کے ناپنے نکلے ہیں دل کو آپ
کیوں عاشقوں کی آنکھ کے دشمن بنے ہو تم
یہ جس سے دیکھتے ہیں وہ بینائی اور ہے
ہر پردہ اٹھ گیا دل و دلبر کے درمیاں
بس ایک یہ حجابِ شناسائی اور ہے
احمد جاوید
No comments:
Post a Comment