عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ
اربابِ زندگی کا ترانہ نہ پوچھئے
گزرا جو کربلا میں زمانہ نہ پوچھئے
وہ دور صبح، دورِ شبانہ نہ پوچھئے
کیسے لٹا نبیؐ کا گھرانہ نہ پوچھئے
لمحوں کو راستوں میں سہارے نہیں ملے
اس رات آسماں کو ستارے نہیں ملے
پوری فضا میں گرد ہے دھندلی ہوا کے ساتھ
وہ عابدِ علیل ہے زنجیر پا کے ساتھ
دامن بندھے ہوۓ تو ہیں صبر و رضا کے ساتھ
دنیا یہ تُو نے کیا کِیا آلِ عبا کے ساتھ
بکھرے وہ گام گام شہیدوں کے جسم ہیں
اے دشت! احترام، شہیدوں کے جسم ہیں
دشت و جبل کی خشک ہوائیں بھی رو پڑیں
اس کہنہ آسماں کی فضائیں بھی رو پڑیں
منظر میں لوریوں کی صدائیں بھی رو پڑیں
یاں تک کہ عرشیوں کی دعائیں بھی رو پڑیں
فردا کے اور حال کے آثار ر و پڑے
بابل کے شہر، مصر کے بازار رو پڑے
اس داستانِ خوں کا ورق پھیلنے لگا
ہر ایک سمت رنگِ شفق پھیلنے لگا
سطح زمیں سے تا بہ افق پھیلنے لگا
خاصانِ حق کے نور سے حق پھیلنے لگا
زخموں کی فصل اور دلآویز ہو گئی
جب سے کھلے یہ پھول، مہک تیز ہو گئی
کوئی نہیں ہے راہ میں جاۓ پناہ تک
اس کربلا کی صبح سے شامِ سیاہ تک
طوفانِ گرد بار ہے حدِ نگاہ تک
جیسے افق سے روٹھ گئے مہر و ماہ تک
منزل نہیں، چراغ نہیں، راستہ نہیں
یہ کون ہے، وہ کون ہے، کچھ بھی پتہ نہیں
دیکھو حسین گود میں اصغر کو لاۓ ہیں
تاریخ کربلا کے مقدر کو لاۓ ہیں
ننھی سی اک شبیہِ پیمبر کو لاۓ ہیں
اس پوری کائنات کے محور کو لاۓ ہیں
کلیوں کو جس کا آج بھی ثانی ہیں ملا
دو دن گزر گئے ہیں پانی نہیں ملا
وفا حجازی
No comments:
Post a Comment