اجالا بڑھ رہا ہے اور اندھیرا چھٹ رہا ہے
میں ماتم کر رہا ہوں میرا سینہ پھٹ رہا ہے
عجب وحشت میں زنجیریں گھما کر مارتا ہوں
نشان ہیں پشت پر، لیکن کلیجہ کٹ رہا ہے
میں اپنی قبر میں نوحہ سنا کر سو چکا ہوں
یہاں نیزے ہیں اور نیزوں کے اوپر روشنی ہے
یہاں خورشید بھی شرما کے پیچھے ہٹ رہا ہے
کسی مقتل کی مٹی سے شعاعیں پھوٹتی ہی
چمکتا ہے وہی چہرہ جو اس سے اٹ رہا ہے
عارف امام
No comments:
Post a Comment