Tuesday, 8 September 2020

اجالا بڑھ رہا ہے اور اندھیرا چھٹ رہا ہے

اجالا بڑھ رہا ہے اور اندھیرا چھٹ رہا ہے
میں ماتم کر رہا ہوں میرا سینہ پھٹ رہا ہے
عجب وحشت میں زنجیریں گھما کر مارتا ہوں
نشان ہیں پشت پر، لیکن کلیجہ کٹ رہا ہے
میں اپنی قبر میں نوحہ سنا کر سو چکا ہوں
فرشتے آ چکے ہیں، اور تبرک بٹ رہا ہے
یہاں نیزے ہیں اور نیزوں کے اوپر روشنی ہے
یہاں خورشید بھی شرما کے پیچھے ہٹ رہا ہے
کسی مقتل کی مٹی سے شعاعیں پھوٹتی ہی
چمکتا ہے وہی چہرہ جو اس سے اٹ رہا ہے

عارف امام

No comments:

Post a Comment