Tuesday, 8 September 2020

ہے شہادت کہ ہلاکت کہ اجل بولتی ہے

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ

ہے شہادت کہ ہلاکت کہ اجل بولتی ہے
مرضئ رب سرِ میدانِ جدل بولتی ہے
یہ زباں حق کی زباں ہے دمِ گفتار تو ہو
پھر ہو دربار کہ مقتل، کہ محل بولتی ہے
ایک وعدہ ہے فقط وعدۂ طفلئ حسینؑ
جس کو قاموسِ تغیّر بھی اٹل بولتی ہے
فجر کا وقت ہے، عاشور ہے، سناٹا ہے
کس خموشی سے یہاں صبحِ ازل بولتی ہے
جنگجو کہہ کے بلاتا ہے مِرا آج مجھے
خود کو خوشبوۓ شہادت مِرا کل بولتی ہے
رن میں ہے صاحبِ اسرارِ بلاغت کا پسر
وہ رجز پڑھتا ہے، شمشیرِ اجل بولتی ہے
آسماں لال نظر آتا ہے جو شام کے وقت
آنکھ اسے خون کی سرخی کا بدل بولتی ہے
بال بکھراۓ ہیں ترتیب و تبدل کی خطیب
اور سرِ خانۂ تخریب و خلل بولتی ہے
میں نے بس شعر کہے، شعر سنے، شعر لکھے
داورِ حشر، مِری فردِ عمل بولتی ہے
اے غزل گو! کبھی سن، مرثیۂ میر انیس
ایک مصرعے میں یہاں پوری غزل بولتی ہے

عارف امام

No comments:

Post a Comment