اگر وہ پُرسشِ احوال کو آنے لگ جائیں
بے بسی ہم تِرا تہوار منانے لگ جائیں
لوگ اک پل میں وہ تعمیر گرا دیتے ہیں
جس کی بنیاد اٹھانے میں زمانے لگ جائیں
تیرگی ایسی ہے شاخوں پہ گماں ہوتا ہے
خود پرندے ہی نشیمن نہ جلانے لگ جائیں
تم سمجھ لینا خبر ہے یہ مِرے آنے کی
لوگ جب راہ میں دیوار اٹھانے لگ جائیں
دوست ایسے ہیں کہ خود تاک کے پتھر ماریں
اور پھر زخم کا احساس دلانے لگ جائیں
کوئی احسانِ مسیحا کا طلبگار نہ ہو
ہم صلیب اپنی اگر آپ اٹھانے لگ جائیں
جانے کس کربِ در و بام میں ہیں اہل سفر
بستیاں دیکھیں تو یہ سوگ منانے لگ جائیں
تیرہ راہوں میں وفا اِس کی ضرورت ہوگی
ہم بھی پیشانی پہ اک زخم سجانے لگ جائیں
وفا حجازی
No comments:
Post a Comment