Friday, 15 October 2021

حشر اک گزرا ہے ویرانے پہ گھر ہونے تک

 حشر اک گزرا ہے ویرانے پہ گھر ہونے تک

جانے کیا بیتی ہے دانے پہ شجر ہونے تک

ہجر کی شب یہ مِرے سوزِ دروں کا عالم

جل کے میں خاک نہ ہو جاؤں سحر ہونے تک

اہلِ دل رہتے ہیں تا زیست وفا کے پابند

شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک

بے قراری کا یہ عالم ہے سرِ شام ہی جب

دیکھیں کیا ہوتا ہے اس دل کا سحر ہونے تک

دیکھیں گے حشر جفاؤں کا ہم ان کی دانش

رہ گئے زندہ جو آہوں کے اثر ہونے تک


دانش فراہی

No comments:

Post a Comment