تختی دوات چھوڑ کے ٹھیلہ لگا لیا
بیٹے نے گھر چلانے کا بیڑہ اٹھا لیا
تنہائی مجھ کو مارنے والی تھی اور پھر
دل نے تمہاری یاد کا میلہ سجا لیا
پہلے تو اس کو دور سے میں دیکھتا رہا
پھر ایک روز چاند کو چھت پر بلا لیا
اس مہ جبیں کا ساتھ ملا بھی تو کیا ملا
یونہی پرائی آگ میں خود کو جلا لیا
اک روز روشنی کی ضرورت پڑی اسے
میں نے پھر اپنے ہاتھ پہ جگنو بٹھا لیا
مجھ کو نہیں پسند مگر کیا کروں منیر
دل جل اٹھا تو میں نے بھی سگریٹ جلا لیا
منیر انجم
No comments:
Post a Comment