صورت پہ تیری جاناں اب ہو رہی غزل ہے
پردہ کلی بھی کر دے وہ سادگی غزل ہے
شامِ سکوت سر پر، دل میں اُداسیاں ہیں
جو دل کو ہے لُبھائے وہ خامشی غزل ہے
ہم نے کسی کے لب سے اپنی غزل سنی ہے
حیرت سے کہہ رہا تھا یہ آپ کی غزل ہے
شرما رہے تھے ہم بھی جب اُس پری کو دیکھا
صورت تھی ایسی پیاری شرما گئی غزل ہے
اب کے ادب میں جاناں برپا ہے بھیڑ اتنی
میں کن کے ہاتھ آئی گھبرا رہی غزل ہے
کوئی کرے بھی اب کیا اس سادگی پہ قرباں
اس سادگی پہ پہلے یہ ہو چکی غزل ہے
رمز و کنایہ ہمدم ہم بھی تو خوب جانے
راتوں میں لوحِ دل سے اُٹھ کے لکھی غزل ہے
جس طور بھی چلے ہیں بادِ بہار کے دن
بادِ صبا کے سر پر ہم نے رکھی غزل ہے
دھڑکن رُکی رُکی سی سانسیں تھمی تھمی سی
ایسا مجھے لگے ہے یہ آخری غزل ہے
مر جائے ہجر میں اب ساگر کا کیا بھروسہ
مقطع پہ آتے آتے آ کے رکی غزل ہے
ساگر سلام
No comments:
Post a Comment