کل شب چُبھا تھا ریزۂ یک خواب آنکھ میں
اُترا ہوا ہے آج بھی خوں ناب آنکھ میں
وہ لے گیا بہا کے سبھی دل کی بستیاں
آیا تھا تیرے بعد جو سیلاب آنکھ میں
رکھی ہوئی تھیں دل میں اناجیل درد کی
تحریر کر لیے مگر ابواب آنکھ میں
اس نے کہا تھا؛ اب تُو مِرا انتظار کر
ہے آج بھی بندھا ہوا اسباب آںکھ میں
اشکوں کے پانیوں سے اسے سینچنا پڑا
دابا تھا ایک بار کوئی خواب آنکھ میں
شاہین کاظمی
No comments:
Post a Comment