عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ
نیزے کی نوک پر وہ تلاوت حسینؑ کی
تاریخ کیا بھلائے امامت حسین کی
قربان کنبہ کر دیا اسلام کے لیے
مشہور تھی جہاں میں سخاوت حسین کی
دینِ خدا کو کر دیا کس درجہ سر بلند
بھولیں تو کس طرح سے کرامت حسیںن کی
لشکر ہزارہا کا بہتّر کے سامنے
دل پر رقم ہوئی ہے شجاعت حسین کی
خونِ وفا سے تر ہوا صحرائے کربلا
ارفع ہے سب جہاں سے شہادت حسین کی
اعظم عقیدتوں میں نہیں ہے گماں کا دخل
ایماں کا ہے تقاضا محبت حسین کی
اعظم شاہد
No comments:
Post a Comment