کسی ولی کی طرح یہ کمال اس نے کیا
زوال دے کے مجھے لا زوال اس نے کیا
تھا اس کے بس میں مگر چھیڑ کر انا کو مِری
خود اپنے واسطے مجھ کو محال اس نے کیا
میں اس قدر بھی نہیں تھا غریبِ رنج و ملال
غمِ جہاں سے مگر مالا مال اس نے کیا
وہ میری جان کا دشمن، میں بے نیازِ حیات
سلوک مجھ سے مِرے حسبِ حال اس نے کیا
مِری رضا سے وہ اوڑھے رہا وجود مِرا
مِری رضا سے مجھے اپنی ڈھال اس نے کیا
خود اپنے آپ کو تنہائیوں میں جھونک دیا
خود اپنا عہدِ وفا پائمال اس نے کیا
یہ معجزہ بھی ہوا ہے کہ فرطِ غم سے نعیم
ہماری موت کے دن انتقال اس نے کیا
نعیم جاوید
No comments:
Post a Comment