Monday, 13 September 2021

کسی ولی کی طرح یہ کمال اس نے کیا

 کسی ولی کی طرح یہ کمال اس نے کیا

زوال دے کے مجھے لا زوال اس نے کیا

تھا اس کے بس میں مگر چھیڑ کر انا کو مِری

خود اپنے واسطے مجھ کو محال اس نے کیا

میں اس قدر بھی نہیں تھا غریبِ رنج و ملال

غمِ جہاں سے مگر مالا مال اس نے کیا

وہ میری جان کا دشمن، میں بے نیازِ حیات

سلوک مجھ سے مِرے حسبِ حال اس نے کیا

مِری رضا سے وہ اوڑھے رہا وجود مِرا

مِری رضا سے مجھے اپنی ڈھال اس نے کیا

خود اپنے آپ کو تنہائیوں میں جھونک دیا

خود اپنا عہدِ وفا پائمال اس نے کیا

یہ معجزہ بھی ہوا ہے کہ فرطِ غم سے نعیم

ہماری موت کے دن انتقال اس نے کیا


نعیم جاوید

No comments:

Post a Comment