Friday, 10 December 2021

حرم کے صحن میں میری بھی شام ہو جائے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


حرم کے صحن میں میری بھی شام ہو جائے

تِرےﷺ غلاموں میں میرا بھی نام ہو جائے

درود پڑھتی ہیں آ کر جہاں ہوائیں بھی

میں چاہتا ہوں وہاں پر قیام ہو جائے

سجاؤں محفلِ میلادؐ ایسی اک گھر میں

کہ میرا گھر بھی یہ روشن تمام ہو جائے

حضورﷺ آپ کے قدموں میں آنا چاہتا ہوں

مجھے بلانے کا کچھ اہتمام ہو جائے

مدینے جاؤں تو صحنِ حرم میں بیٹھے ہوئے

مِری حیات کا بس اختتام ہو جائے

تمام عمر سے اعظم یہ میری خواہش ہے

در حضورﷺ پہ جھک کر سلام ہو جائے


اعظم شاہد

No comments:

Post a Comment