Friday, 10 December 2021

لیٹا ہوا ہوں سایۂ غربت میں گھر سے دور

 لیٹا ہوا ہوں سایۂ غربت میں گھر سے دُور

دل سے قریں ہیں اہلِ وطن اور نظر سے دور

جب تک ہے دل رہینِ مآل و اسیرِ عقل

رہنا ہے تجھ سے اور تِری رہگزر سے دور

اے کیف! ان کی مست نگاہوں میں چھپ کے آ

اے درد! دم زدن میں ہو میرے جگر سے دور

اک دن الٹنے والی ہے زاہد بساطِ زہد

کب تک رہے گا دل نگہِ فتنہ گر سے دور

وہ کوئی زندگی ہے جوانی ہے وہ کوئی

اے دوست! جو ہے تیرے جمالِ نظر سے دور

کیا آئی تیرے جی میں کہ تقدیر یوں مجھے

پھینکا ہے لا کے وادئ غربت میں گھر سے دور

اے حسنِ بے پناہ بتائے کوئی مجھے

دنیا کی کون چیز ہے تیرے اثر سے دور

اللہ رے نصیب کہ پائی ہے وہ فغاں

جو عمر بھر رہی ہے فریبِ اثر سے دور

الطاف ناز اپنی گدائی پہ ہے مجھے

دامن ہے اس کا سایۂ لعل و گہر سے دور


الطاف مشہدی

No comments:

Post a Comment