شک تجھ کو گمرہی کا کبھی راہبر نہ ہو
یہ شرط ہے کہ خام شعورِ نظر نہ ہو
ناکامیوں سے عزم نکھرتا ہے اور بھی
دراصل معرکہ تو وہی ہے جو سر نہ ہو
منزل کی جستجو میں نکلنا فضول ہے
جب تک جنونِ شوق، شریکِ سفر نہ ہو
ہم اس امیرِ شہر سے ہیں عافیت طلب
کس حال میں ہیں لوگ، جسے یہ خبر نہ ہو
یہ انتہائے غم ہے مسرّت کی ابتدا
ممکن نہیں کہ شب کا مقدر سحر نہ ہو
ہے آفریں انہیں جو ہنسے ہیں تمام عمر
ہم سے تو ایک رات بھی غم کی بسر نہ ہو
وہ چہرۂ حسیں تو شگفتہ ہے پھول سا
کچھ نقص آئینے میں ہی آئینہ گر نہ ہو
مجھ کو اٹھا کے آپ پشیماں نہ ہوں کہیں
وہ بزم کیا کہ جس میں کوئی دیدہ ور نہ ہو
ایسا بھی التفات گوارا نہیں مجھے
جس کا نصیر شکر ادا عمر بھر نہ ہو
نصیر کوٹی
No comments:
Post a Comment