Friday, 10 December 2021

نہ روک پائیں گئے دل کو خوشی منانے سے

 نہ روک پائیں گئے دل کو خوشی منانے سے

ہماری خاک یہاں لگ گئی ٹھکانے سے

حضور آپ کے ہسنے سے مسکرانے سے

چمن میں پھول کِھلے ہیں اسی بہانے سے

خوشی، بہار، سکون و قرار اور نیندیں

یہ ہم سے روٹھ گئے تیرے روٹھ جانے سے

میں عشق ہوں مجھے سب سے چھپا کے تم رکھنا

میری زمانے سے ان بن ہے اک زمانے سے

میں آج برق سے اتنا ضرور پوچھوں گی

کہ تیری کون سی رنجش ہے آشیانے سے

سمن اگر یہ محبت نہیں تو پھر کیا ہے

میں اس کو آج بھی خاصر ہوں بھول جانے سے


سُمن دُگل

No comments:

Post a Comment