Friday, 10 December 2021

تپش ہجر کم اک رات تو ہونے دیتا

تپشِ ہجر کم اک رات تو ہونے دیتا

کاش اک دن کوئی کُھل کر مجھے رونے دیتا

کاش اُمید کی گلیوں میں بھٹکنے والا

اپنے احساس کو پتھر کے کِھلونے دیتا

آ کے ساحل پہ اذیّت تو نہ سہنا پڑتی

اپنی کشتی جو میں طُوفاں کو ڈبونے دیتا

اس جُنوں نے تو کسی کام کا چھوڑا نہ مجھے

ہو رہا تھا جو زمانے میں وہ ہونے دیتا

جس کی قسمت میں فقط خار ہوں اس کو بابر

کوئی کیسے بھلا پھُولوں کے بِچھونے دیتا


بابر جاوید

No comments:

Post a Comment