Sunday, 12 December 2021

جو اہل دل ہیں آل پیمبر کے ساتھ ساتھ

عارفانہ کلام نعتیہ کلام منقبت سلام

 جو اہلِ دل ہیں آلِ پیؑمبر کے ساتھ ساتھ

محشر میں ہوں گے ساقئ کؑوثر کے ساتھ ساتھ

کم تر کا بھی مقام ہے برتر کے ساتھ ساتھ

کانٹے لگے ہوئے ہیں گُلِ تر کے ساتھ ساتھ

آئی نہ جانے کیوں کسی بچھڑے ہوئے کی یاد

دیکھے جو دو پرند برابر کے ساتھ ساتھ

میرا وجود بھی تو بنے اک چراغِ نُور

گردش میں، میں بھی ہوں مہ و اختر کے ساتھ ساتھ

پہلا سا ان سے ربط و تعلق ہے اب کہاں

وہ بھی بدل گئے ہیں مقدر کے ساتھ ساتھ

اب بھی ہے گرم معرکۂ کربلا یہاں

لوگ اب بھی ہیں یزید کے لشکر کے ساتھ ساتھ

کیا جانے کیا دکھائے گا یہ ہجرتوں کا روگ

دنیا بدل گئی ہے مِرے گھر کے ساتھ ساتھ

بزمِ سخن بہ پاسِ روایاتِ محترم

باقر ہیں آج حضرتِ اختر کے ساتھ ساتھ


باقر زیدی

No comments:

Post a Comment