ہر ایک گام پہ سجدہ یہاں روا ہو گا
خودی کا دور ہے ہر شخص اب خدا ہو گا
بنامِ فصلِ بہاراں خزاں کی پُوجا ہے
یہی مذاقِ گلستاں رہا تو کیا ہو گا
دُھواں سا اُٹھنے لگا دل سے اہلِ محفل میں
نیا چراغ کوئی بزم میں جلا ہو گا
تمہارے شہر میں آئے ہیں اہلِ غربت پھر
اس آس پر کہ کوئی درد آشنا ہو گا
جرس ہے ان کا صدا ان کی کارواں ان کے
سوائے گردِ سفر میرے پاس کیا ہو گا
کبھی نہ عہدِ جنوں میں کسی نے سوچا تھا
خِرد کا دور بہت صبر آزما ہو گا
نسیم ہم سے ہے زندہ جہاں میں نامِ وفا
ہمارے بعد زمانہ بدل چکا ہو گا
وحیدہ نسیم
No comments:
Post a Comment