Friday, 11 June 2021

ستم ہے دل کے دھڑکنے کو بھی قرار کہیں

 ستم ہے دل کے دھڑکنے کو بھی قرار کہیں

تمہارے جبر کو اپنا ہی اختیار کہیں

سکوں وہی ہے جسے چارہ گر سکوں کہہ دیں

کہاں یہ اذن کہ کچھ تیرے بے قرار کہیں

چھپائیں داغِ جگر پھول جتنا ممکن ہو

کہیں نہ اہلِ نظر ان کو دلِ فگار کہیں

فضا ہے ان کی چمن ان کے آشیاں ان کے

خزاں کے زخم کو جو غنچۂ بہار کہیں

پئے ہیں اشک ہزاروں تو لب پہ آئی ہے

وہ اک ہنسی کہ جسے فرضِ ناگوار کہیں

اندھیری شب میں جلیں گے چراغ بن بن کے

وہ نقشِ پا کہ جنہیں راہ کا غبار کہیں

سمجھ سکے گا وہاں کون رازِ مےخانہ

نسیم تشنہ لبی کو جہاں خمار کہیں


وحیدہ نسیم

No comments:

Post a Comment