Friday, 11 June 2021

جہالت کا منظر جو راہوں میں تھا

 جہالت کا منظر جو راہوں میں تھا

وہی بیش و کم درس گاہوں میں تھا

جو خنجر بکف قتل گاہوں میں تھا

وہی وقت کے سربراہوں میں تھا

عجب خامشی اس کے ہونٹوں پہ تھی

عجب شور اس کی نگاہوں میں تھا

اسے اس لیے مار ڈالا گیا

کہ وہ زیست کے خیر خواہوں میں تھا

ہماری نظر سے وہ کل گر گیا

جو کل تک ہماری نگاہوں میں تھا

وہ کیا دیتا اختر کسی کو پناہ

جو خود عمر بھر بے پناہوں میں تھا


وکیل اختر

No comments:

Post a Comment