Monday, 16 November 2020

مژگاں پہ آج یاس کے موتی بکھر گئے

 مژگاں پہ آج یاس کے موتی بکھر گئے

ظلمت بڑھی جو رات کی تارے نکھر گئے

کیسی ضیا ہے یہ جو منور ہیں بام و در

سُوئے فلک یہ کس کی فغاں کے شرر گئے

شکوے ہیں آسماں سے، زمیں سے شکایتیں

الزام ان کے جور کے کس کس کے سر گئے

محفل میں آئی کس کی صدائے شکستِ دل

ساقی کے ہاتھ رک گئے، ساغر ٹھہر گئے

سینہ فگار پھولوں سے خوشبو نکل پڑی

شبنم کے آنسوؤں سے گلستاں نکھر گئے

الجھی تھی جن میں ایک زمانے سے زندگی

کیوں اے غمِ حیات وہ گیسو سنور گئے


وحیدہ نسیم

No comments:

Post a Comment