بھنور سفینہ سفر سب کا سب کہانی ہے
مسافرت بھی اذیت کی اک نشانی ہے
کسی کی پیاس بجھانے کے کام کی بھی نہیں
ہماری عمر سمندر کا کھارا پانی ہے
نشانِ سجدہ میں بھرنی ہے بندگی کی ضیا
دِیا🪔 بنا لیا ہے، روشنی بنانی ہے
بہا رہا ہوں کسی غم میں مستقل آنسو
مجھے نظر کے چراغوں کی لو بڑھانی ہے
گزشتہ لمحوں سے آئندہ وقت ڈھالنا ہے
پرانی کل سے نئی کل مجھے چرانی ہے
یہ ارتقاء مرے ادراک پر مصیبت ہے
ابھی نئی تھی یہ دنیا، ابھی پرانی ہے
نظارہ حسبِ طبیعت ہے، حسن حسبِ مزاج
خزاں رسیدہ دلوں کو خزاں سہانی ہے
خود احتسابی کی منزل ہے زندگی جیسے
بدن کی جھڑتی ہوئی خاک خود اٹھانی ہے
عجیب رد و بدل ہو گیا ہے خلقت میں
ہے روح خاکی مری، جسم آسمانی ہے
غموں کو باندھ کے اکبر میں اپنے دامن میں
یہ سوچتا ہوں کہ دولت کہاں چھپانی ہے
حسنین اکبر
No comments:
Post a Comment