Wednesday, 16 June 2021

جو رستہ چن لیا اس کو بدلنا کیوں نہیں آیا

 جو رستہ چُن لیا اس کو بدلنا کیوں نہیں آیا

مجھے اوروں کے نقشِ پا پہ چلنا کیوں نہیں آیا

مِرے جذبوں کی حِدت اس کے دل تک ہی نہیں پہنچی

مِری کِرنوں کو بادل سے نکلنا کیوں نہیں آیا

ذرا سا لڑکھڑا کر گِر پڑا میں ایک ٹھوکر سے

قدم اُکھڑے تو پھر مجھ کو سنبھلنا کیوں نہیں آیا

یہ دل لگتا ہے بازی ہار جانے میں ملوث تھا

اسے کھو کر کفِ افسوس ملنا کیوں نہیں آیا

نہیں معلوم کیسے عمر گزری مختلف سب سے

مجھے اس آگ میں رہ کر بھی جلنا کیوں نہیں آیا


اقبال نوید

No comments:

Post a Comment