میں اس لیے ہجوم کا حصہ نہیں بنا
سورج کبھی نجوم کا حصہ نہیں بنا
میرا الگ سماج ہے، میرا الگ مزاج
میں محفلوں کی دُھوم کا حصہ نہیں بنا
بادِ سحر ہوں اپنے ضمیر و خمیر میں
اس واسطے سمُوم کا حصہ نہیں بنا
موجِ خفی ہوں سینہ بہ سینہ ہے میرا فیض
میں ظاہری علوم کا حصہ نہیں بنا
شاہد میں اس سماج کا حصہ ضرور ہوں
لیکن غلط رسوم کا حصہ نہیں بنا
شاہد ماکلی
No comments:
Post a Comment