جو تیرا ہے مومن کا لہجہ نہیں ہے
خدا کی یہ تقسیم بے جا نہیں ہے
یہ لارے میں رکھنا کہاں کا ہے قانون
محبت نہیں ہے تو کہہ؛ جا، نہیں ہے
دکھاتے ہو آنکھیں ہمیں رات دن تم
اُٹھا عشق اپنا تُو لے جا نہیں ہے
ہتھیلی پہ رشتے دھرے آ گئے ہو
یہ کشکول مجھ کو ہی دے جا نہیں ہے
یہ شک کی ہوائیں ہیں نفرت کا حصہ
محبت کی جوڑی میں تیجا نہیں ہے
ثمرین افتخار
No comments:
Post a Comment