ہے انتظار کال کا ہم سو نہیں رہے
اب تک تمہارے پانچ منٹ ہو نہیں رہے
یہ بھی ہمارے پیار کی پختہ دلیل ہے
تُو دستیاب ہے تو تجھے کھو نہیں رہے
ہم لوگ علم بیچنے والے عظیم لوگ
عرصے سے بیج آگہی کا بو نہیں رہے
خود پر شدید جبر ہے، یہ صبر تو نہیں
ہم ہنس رہے ہیں دوستا ہم رو نہیں رہے
تُو نے تو میری ذات کو یکسر بدل دیا
جتنے بھی مجھ میں عیب تھے، دیکھو، نہیں رہے
میں ان کے خواب دیکھنے والا قدیم شخص
میری نگاہِ یاد میں جو جو نہیں رہے
جس دن زمین خاک سے بیزار ہو گئی
اپنے یہ فرضی جسم بھی پھر تو، نہیں رہے
ہائے کئی غزال بدن، خوش گلو بشر
پھرتے تھے اس جہان میں سوچو، نہیں رہے
مبشر میو
No comments:
Post a Comment