Wednesday, 16 June 2021

تاروں کی طرف جاتی ہے یہ راہ چلیں کیا

 تاروں کی طرف جاتی ہے یہ راہ، چلیں کیا؟

تاروں کے جلو میں ہے وہیں ماہ، چلیں کیا

دھرنا ہے قدم چاند پہ، جانا ہے فلک تک

سنتا ہوں تو اس رہ سے ہے آگاہ، چلیں کیا

جانچیں گے ذرا وسعت افلاک بھی اک دن

ڈھونڈیں گے سمندر کی ذرا تھاہ، چلیں کیا

منت جو بھی مانگے کوئی ہوجاتی ہے پوری

اس شہر میں اک ایسی ہے درگاہ، چلیں کیا

جس شخص کو دیکھے ہوئے بیتیں کئی صدیاں

اس شخص کے آنے کی ہے افواہ، چلیں کیا

بزم مہ و انجم کی کشش کھینچے ہے تجھ کو

عارف کو بھی اس بزم کی ہے چاہ، چلیں کیا


عارف نسیم فیضی

No comments:

Post a Comment