کس نے کہا کہ گردِ سفر لے گئی ہوا
آنکھوں میں تھی جو تابِ نظر لے گئی ہوا
میں نے کتاب کھول دی اک روز عشق کی
سارے ورق اڑا کے مگر لے گئی ہوا
شاخوں کا جھولا اس نے جھلایا تھا ہوش میں
پاگل ہوئی تو برگِ شجر لے گئی ہوا
دل بجھ گیا تو آنکھ کا منظر بدل گیا
آشوبِ چشم دے کے نظر لے گئی ہوا
منزل ملی تو پاس میں کچھ بھی نہیں رہا
جو کچھ بچا تھا رختِ سفر لے گئی ہوا
کالی گھٹا سرور تہی دست ہو گئی
بارش برسنے والا ہنر لے گئی ہوا
قمر سرور
No comments:
Post a Comment