قرارِ جان کیا سوزِ جگر کے ہوتے ہوئے
سلگ رہا ہے یہ دل چشمِ تر کے ہوتے ہوئے
شبِ خلش تجھے آخر تمام کیسے کروں
اندھیرا بڑھنے لگا ہے سحر کے ہوتے ہوئے
دعا کرو کہ دعاؤں کی اب ضرورت ہے
دوا کا نام نہ لو چارہ گر کے ہوتے ہوئے
وہ دیکھتا رہا ساحل کو ٹکٹکی باندھے
میں ڈوبتا گیا اس بے خبر کے ہوتے ہوئے
زمین اوڑھ کے عورت کو گھر ملے تو ملے
وہ بے ٹھکانہ زمیں پر ہے گھر کے ہوتے ہوئے
ظل ہما
No comments:
Post a Comment