Monday, 19 July 2021

چاہتوں کو عمر بھر کا غم بنانا اور ہے

 چاہتوں کو عمر بھر کا غم بنانا اور ہے

یوں کسی کی یاد میں آنسو بہانا اور ہے

مجھ کو ملتا ہی نہیں میرے سفر کا راستہ

منزلیں میری الگ، میرا ٹھکانہ اور ہے

اب لگا کہ قربتوں میں فاصلے بڑھنے لگے

ان دنوں اس کی گلی میں آنا جانا اور ہے

مجھ کو راس آتا نہیں عیش و طرب کا یہ جہاں

تیری دنیا اور ہے، میرا زمانہ اور ہے

مل نہیں سکتے قمر، بچھڑے ہوئے ساحل ہیں ہم

داستان میری الگ، تیرا فسانہ اور ہے


قمر سرور

No comments:

Post a Comment