چاہتوں کو عمر بھر کا غم بنانا اور ہے
یوں کسی کی یاد میں آنسو بہانا اور ہے
مجھ کو ملتا ہی نہیں میرے سفر کا راستہ
منزلیں میری الگ، میرا ٹھکانہ اور ہے
اب لگا کہ قربتوں میں فاصلے بڑھنے لگے
ان دنوں اس کی گلی میں آنا جانا اور ہے
مجھ کو راس آتا نہیں عیش و طرب کا یہ جہاں
تیری دنیا اور ہے، میرا زمانہ اور ہے
مل نہیں سکتے قمر، بچھڑے ہوئے ساحل ہیں ہم
داستان میری الگ، تیرا فسانہ اور ہے
قمر سرور
No comments:
Post a Comment