Monday, 19 July 2021

خوش گمانی کو ذرا سا تو سہارا ہوتا

 خوش گمانی کو ذرا سا تو سہارا ہوتا

آئینہ میری طرح تھوڑا تو جھوٹا ہوتا

تُو کوئی بت نہیں میری ہی طرح انساں ہے

بت بھی ہوتا تو تجھے میں نے تراشا ہوتا

اس کی محفل ہی پہ موقوف نہیں یہ احساس

میں جہاں ہوتا اسی طرح اکیلا ہوتا

میر کے دل کی طرح شام سے بجھ رہتا ہوں

ورنہ سورج کی طرح صبح سے جلتا ہوتا

کیا فقط میرے لیے رہ گئیں سب کی یادیں

کاش یوں ہوتا کہ میں بھی کبھی تنہا ہوتا

بے نیازانہ جو تعبیریں بتاتے ہو ذکا

کبھی اک خواب میری آنکھوں سے دیکھا ہوتا


ذکا صدیقی

No comments:

Post a Comment