وہ بھی اور ہم بھی بیوفا نکلے
ہر تعلق سے ہی جدا نکلے
اس لیے کھولتی نہیں میں اسے
عین ممکن ہے دوسرا نکلے
اب مجھے چاہیے نتیجہ عشق
وہ برا نکلے یا بھلا نکلے
ایسا چپ ہے کہ دھڑکنیں بھی ہیں چپ
کاش دل سے کوئی صدا نکلے
اس کا برتاؤ ایسا ہو مِرے ساتھ
جب بھی سوچوں اسے دعا نکلے
کیسے اس گھر تلک میں جاؤں کہ جب
راستے میں سے راستہ نکلے
کیا کریں ایسے پرس کا جس میں
آئینے کی جگہ دوا نکلے
گل افشاں
No comments:
Post a Comment