میں نے دیکھا ہے کئی لوگوں کو یوں مرتے ہوئے
ہاتھ چُھوٹے اور قدم رُک سے گئے چلتے ہوئے
دِکھ گئی تھی میری آنکھوں میں چُھپی چاہت اُسے
ایک دم سے مسکرائی تھی وہ جب لڑتے ہوئے
اس کو کیا معلوم کیا ہوتی ہے یہ افسُردگی؟
اس نے کب دیکھے ہیں آرے سے شجر کٹتے ہوئے
پگڑیوں کی لاج رکھ کر کہہ دیا اس نے قبول
ہاتھ لیکن کپکپائے دستخط کرتے ہوئے
خوش گمانی میں گزر جاتا تھا سارا دن مِرا
دیکھ لیتی تھی وہ جس دن اک نظر ہنستے ہوئے
حمزہ سواتی
No comments:
Post a Comment