Monday, 19 July 2021

میں ہوں یا کوئی اور

 میں ہوں یا کوئی اور

تمہاری غزلوں سے جھانکتی ہے

کوئی حسیں دلربا سی لڑکی

تمہاری نظموں میں مضمر ہے

وہ شہابی چہرہ اور گھنی زلفیں

چھلک رہی ہیں ان لفظوں سے

اس کی باتیں

تو کیا میں یقین کروں

وہ میں ہوں یا کوئی اور

جاوداں تمہاری غزلوں میں

اور مہکتی نظموں کی لے میں

بن کے دھڑکن تابندہ ہے


فاطمہ رضوی

No comments:

Post a Comment