میں ہوں یا کوئی اور
تمہاری غزلوں سے جھانکتی ہے
کوئی حسیں دلربا سی لڑکی
تمہاری نظموں میں مضمر ہے
وہ شہابی چہرہ اور گھنی زلفیں
چھلک رہی ہیں ان لفظوں سے
اس کی باتیں
تو کیا میں یقین کروں
وہ میں ہوں یا کوئی اور
جاوداں تمہاری غزلوں میں
اور مہکتی نظموں کی لے میں
بن کے دھڑکن تابندہ ہے
فاطمہ رضوی
No comments:
Post a Comment