اُس تہی دست کے پاس کیا کچھ نہیں
جس کی دنیا میں تیرے سوا کچھ نہیں
یوں اذیت کو اس کے حوالے کیا
میں نے دیکھا اسے اور کہا کچھ نہیں
اس کو بھر دے گا ماضی کے انبار سے
وقت کے سامنے یہ خلا کچھ نہیں
وہ مِرے رو برو میرا منکر ہوا
عکس کہنے لگا آئینہ کچھ نہیں
پیار کا بیج دل میں نہیں بو رہا
کل کے بارے میں وہ سوچتا کچھ نہیں
میں نہیں مانتا ایسے قانون کو
دل دکھانے کی جس میں سزا کچھ نہیں
اس لیے فیصلہ کر نہیں پا رہا
ٹھان لوں میں تو پھر دیکھتا کچھ نہیں
چند آنسو ہیں جن کا سبب آپ ہیں
اور رختِ سفر با خدا کچھ نہیں
رکھ دیا فون اس نے یہ کہتے ہوئے
جتنا روتے ہو اتنا ہوا کچھ نہیں
تیمور ذوالفقار
No comments:
Post a Comment