Monday, 19 July 2021

کچھ خوشی دی تو کچھ ملال دیا

 کچھ خوشی دی تو کچھ ملال دیا

اس نے کس کشمکش میں ڈال دیا

غمِ جاناں کہ ہو غمِ دوراں 

میں نے ہر غم کو ہنس کے ٹال دیا

زندگی کی لغات سے میں نے 

آج حرفِ وفا نکال دیا

میں نے سُلجھائے گیسوئے تقدیر

اور اُلجھن میں خود کو ڈال دیا


رومانہ رومی

No comments:

Post a Comment