اک محبت جس کے ہم مارے ہوئے تھے
پھر ستم یہ زندگی ہارے ہوئے تھے
آپ ہی ہم سے رہے ہیں دور، ورنہ
ہم میسر آپ کو سارے ہوئے تھے
ان شہیدوں کا مقام اپنی جگہ ہے
جو خدائے حرف کو پیارے ہوئے تھے
جن کا ذکرِ خیر ہے اس نظم میں بھی
وہ کسی کی آنکھ کے تارے ہوئے تھے
دل تو اندھا تھا بھٹکنا تھا اسے تو
آپ بھی اس راہ میں ہارے ہوئے تھے
شکر ہے تُو نے ہمیں در پر بلایا
ہم زمانے بھر کے دھتکارے ہوئے تھے
آج تک میں اُن کی قرأت کر رہا ہوں
جو صحیفے میرے سیپارے ہوئے تھے
قدر کرتا ہوں میں ان کی سیف اب بھی
جو تمہارے ہجر کے مارے ہوئے تھے
سیف ریاض
No comments:
Post a Comment