ہمیشہ دو رخی رہنا
نگاہوں کے سمندر کو ہمیشہ ڈھانپ کر رکھنا
کہ اس کو لوگ پڑھتے ہیں
لبوں کو بھینچ کر رکھنا
کہ شکوے اور شکایت کا کوئی موسم نہیں ہوتا
یہ جو دل ہے
بہت ہی خوبصورت ہے مگر الجھا ہوا دل ہے
بہت آزار پروردہ
یہیں ساون برستا ہے
اسی میں روگ پلتے ہیں
تم اپنے دل کی تختی کو ہمیشہ ان لکھا رکھنا
کسی بھی بدگماں موسم کی دو سطریں بھی مت لکھنا
کبھی تم ان کہے سپنوں کو تعبیریں بنا لینا
کبھی تم آئینہ رکھنا پھر اس سے گفتگو کرنا
سدا شاداب ہی رہنا
کبھی غمگیں نہ ہو جانا
یہاں کوئی نہیں ہے جو
بڑھا کر ہاتھ کی پوریں تمہارے اشک پونچھے گا
یہاں سب کی نگاہِ بد تمہیں گھائل ہی کر دے گی
یہ دنیا ہے
گِدھوں کی بادشاہت ہے
تمہیں جو نوچ پھینکیں گے
ہراساں ہو نہیں جانا
بہت ہی دلنشیں ہو کر بہت انجان ہو جانا
ہمیشہ دو رخی رہنا
سنو تم دو رخی رہنا
ناہید عزمی
No comments:
Post a Comment