Monday, 19 July 2021

نگاہوں کے سمندر کو ہمیشہ ڈھانپ کر رکھنا

ہمیشہ دو رخی رہنا


نگاہوں کے سمندر کو ہمیشہ ڈھانپ کر رکھنا 

کہ اس کو لوگ پڑھتے ہیں

لبوں کو بھینچ کر رکھنا

کہ شکوے اور شکایت کا کوئی موسم نہیں ہوتا

یہ جو دل ہے

بہت ہی خوبصورت ہے مگر الجھا ہوا دل ہے

بہت آزار پروردہ

یہیں ساون برستا ہے

اسی میں روگ پلتے ہیں

تم اپنے دل کی تختی کو ہمیشہ ان لکھا رکھنا

کسی بھی بدگماں موسم کی دو سطریں بھی مت لکھنا

کبھی تم ان کہے سپنوں کو تعبیریں بنا لینا

کبھی تم آئینہ رکھنا پھر اس سے گفتگو کرنا

سدا شاداب ہی رہنا

کبھی غمگیں نہ ہو جانا

یہاں کوئی نہیں ہے جو 

بڑھا کر ہاتھ کی پوریں تمہارے اشک پونچھے گا

یہاں سب کی نگاہِ بد تمہیں گھائل ہی کر دے گی

یہ دنیا ہے

گِدھوں کی بادشاہت ہے

تمہیں جو نوچ پھینکیں گے

ہراساں ہو نہیں جانا

بہت ہی دلنشیں ہو کر بہت انجان ہو جانا

ہمیشہ دو رخی رہنا

سنو تم دو رخی رہنا


ناہید عزمی

No comments:

Post a Comment