Monday, 19 July 2021

تمہارے ہجر پہ الزام دھر گیا ہوتا

 تمہارے ہجر پہ الزام دھر گیا ہوتا

اک اور عشق نہ کرتا تو مر گیا ہوتا

بچھڑ کے تم سے زیادہ خراب ہو گیا ہوں

تمہارے ساتھ جو رہتا، سدھر گیا ہوتا

یہ اور شے ہے جو فرزانگی سے بڑھ کے ہے

یہ نشہ ہوتا تو کب کا اتر گیا ہوتا

یہ گمرہی مِری، حجت ہے نارسائی کی

جو منتظر کوئی ہوتا، تو گھر گیا ہوتا

اگر سبھی پہ یوں حبل الورید کھل جاتی

تو پھر دلوں سے خدائی کا ڈر گیا ہوتا

یہ دل لگی ہے جسے ہنس کے جھیلتے ہیں آپ

حضور عشق اگر ہوتا، سر گیا ہوتا


آزاد حسین آزاد

No comments:

Post a Comment