تمہارے ہجر پہ الزام دھر گیا ہوتا
اک اور عشق نہ کرتا تو مر گیا ہوتا
بچھڑ کے تم سے زیادہ خراب ہو گیا ہوں
تمہارے ساتھ جو رہتا، سدھر گیا ہوتا
یہ اور شے ہے جو فرزانگی سے بڑھ کے ہے
یہ نشہ ہوتا تو کب کا اتر گیا ہوتا
یہ گمرہی مِری، حجت ہے نارسائی کی
جو منتظر کوئی ہوتا، تو گھر گیا ہوتا
اگر سبھی پہ یوں حبل الورید کھل جاتی
تو پھر دلوں سے خدائی کا ڈر گیا ہوتا
یہ دل لگی ہے جسے ہنس کے جھیلتے ہیں آپ
حضور عشق اگر ہوتا، سر گیا ہوتا
آزاد حسین آزاد
No comments:
Post a Comment