ECSTASY
سرمئی شام کے کنارے پہ جب
سورج کا تھال الٹ جاتا ہے
افق پہ لالی سی بکھر جاتی ہے
اور جھٹ پٹا نیچے آنے لگتا ہے
پنچھی قطاریں باندھے اڑتے ہوئے
اپنے اپنے گھروں کو لوٹتے ہیں
تب میں اپنے گھر سے نکلتی ہوں
شام کے ساتھ واک کرنے کے لیے
ابھی تھوڑا سا آگے بڑھتی ہوں تو
بیلے کی دلکش و دلربا خوشبو
بڑھ کے ساتھ میرے ہو لیتی ہے
پر وہ دو چار قدم چل کے ہی
تھک کے پیچھے کہیں رک جاتی ہے
واک کا درمیانی پڑاؤ وہ
پول کے ساتھ پڑا بنچ ہے جو
پارک کے آخری کنارے پر
راہ کے دائیں ایستادہ ہے
جانے اس لیمپ اور بنچ کی کیا کہانی ہے
مجھے تو اکثر وہ سرگوشیوں میں مگن ہی ملے ہیں
اداسی اور گہری تنہائی بھی
ان کے ساتھ ہوا کرتی ہیں
میں ان چاروں کے درمیان جا کے روزانہ
تھوڑی سی دیر بیٹھ جاتی ہوں کہ
شاید وہ اپنی محفل میں
ذرا سی دیر مجھے بھی شامل کر لیں
مگر میرے جاتے ہی چھپ جاتی ہے تنہائی
اداسی بلی کی مانند دبک کے
بینچ کے پہلو میں جا سمٹتی ہے اور
لیمپ سر نیہوڑائے دیکھتا رہتا ہے مجھے
انجان سنگت میں بن بلائے آنے کی خجالت لیے
چند لمحے بیٹھتی ہوں وہاں
منظر کی دلکشی کو دھیرے سے
اپنے اندر اتارتے ہوئے
اٹھ جاتی ہوں پھر اپنے اکلاپے کے ساتھ
اور سوچتی ہوں کہ کل سے
پارک کے اس اجنبی منظر میں بالکل
دخل در انداز نہیں ہونا لیکن
اگلی ہی شام بھول کر سب کچھ
پھر کھنچی چلی جاتی ہوں وہاں
انہی چاروں کے درمیاں
جانے یہ کیسی ایکٹسی ہے؟
نائلہ خاور
No comments:
Post a Comment