Monday, 19 July 2021

سرمئی شام کے کنارے پہ

ECSTASY


سرمئی شام کے کنارے پہ جب

سورج کا تھال الٹ جاتا ہے

افق پہ لالی سی بکھر جاتی ہے

اور جھٹ پٹا نیچے آنے لگتا ہے

پنچھی قطاریں باندھے اڑتے ہوئے

اپنے اپنے گھروں کو لوٹتے ہیں

تب میں اپنے گھر سے نکلتی ہوں

شام کے ساتھ واک کرنے کے لیے

ابھی تھوڑا سا آگے بڑھتی ہوں تو

بیلے کی دلکش و دلربا خوشبو

بڑھ کے ساتھ میرے ہو لیتی ہے

پر وہ دو چار قدم چل کے ہی

تھک کے پیچھے کہیں رک جاتی ہے

واک کا درمیانی پڑاؤ وہ

پول کے ساتھ پڑا بنچ ہے جو

پارک کے آخری کنارے پر

راہ کے دائیں ایستادہ ہے

جانے اس لیمپ اور بنچ کی کیا کہانی ہے

مجھے تو اکثر وہ سرگوشیوں میں مگن ہی ملے ہیں

اداسی اور گہری تنہائی بھی

ان کے ساتھ ہوا کرتی ہیں

میں ان چاروں کے درمیان جا کے روزانہ

تھوڑی سی دیر بیٹھ جاتی ہوں کہ

شاید وہ اپنی محفل میں

ذرا سی دیر مجھے بھی شامل کر لیں

مگر میرے جاتے ہی چھپ جاتی ہے تنہائی

اداسی بلی کی مانند دبک کے

بینچ کے پہلو میں جا سمٹتی ہے اور

لیمپ سر نیہوڑائے دیکھتا رہتا ہے مجھے

انجان سنگت میں بن بلائے آنے کی خجالت لیے

چند لمحے بیٹھتی ہوں وہاں

منظر کی دلکشی کو دھیرے سے

اپنے اندر اتارتے ہوئے

اٹھ جاتی ہوں پھر اپنے اکلاپے کے ساتھ

اور سوچتی ہوں کہ کل سے

پارک کے اس اجنبی منظر میں بالکل

دخل در انداز نہیں ہونا لیکن

اگلی ہی شام بھول کر سب کچھ

پھر کھنچی چلی جاتی ہوں وہاں

انہی چاروں کے درمیاں

جانے یہ کیسی ایکٹسی ہے؟


نائلہ خاور

No comments:

Post a Comment