Sunday, 18 July 2021

محبت تمہیں یہ کس نے کہہ دیا آخر

 محبت


تمہیں یہ کس نے کہہ دیا آخر

کہ

کسی ریستوراں کے نیم تاریک گوشے میں

بیٹھ کر مدھم سرگوشیوں میں

مسکراتے لبوں سے بات کرنا

اور آئس کریم کے کپ میں چمچ ہلاتے ہوئے

خواہش دل کو زباں پر لے آنا محبت ہے

تمہیں یہ کس نے کہہ دیا آخر

کہ

کسی رقص کدے میں

ہم رقص کے بالوں کو چھوتے ہوئے دھیرے سے

دل کش دھنوں کے حسیں سروں پر

اٹھتے ہوئے قدموں کی تال پر

آنکھوں میں جھانکنا

ستاروں کو چن لینا

اور ان کہی سنا دینا محبت ہے

جائز و ناجائز کے فلسفے کا عصا تھامے

جواز حد و بے حد کی دیوار سجائے

بلا دستک بے روح مکان جسم میں در آنا محبت ہے

محبت کو محض چار حرف نہ سمجھو جنہیں تم اسکریبل میں استعمال کرتے ہو

نہ ہی محبت کوئی ویڈیو گیم ہے

جس میں گم ہو کر تم ٹینشن کو بھلاتے ہو

محبت کو رانگ نمبر سمجھ کے ملاتے ہو

محبت کوئی ڈرا ہوا پرندہ نہیں

جسے تم جملوں کی ڈور سے باندھتے ہو

مٹھی میں بند کرتے ہو اور بھول جاتے ہو

بلکہ محبت تو کسی وحشی قبیلے کی چالاک دیوی

تمہاری انا کو اپنے طلسم میں یوں قید کرتی ہے

کہ تم سارا زعم بھول جاتے ہو

محبت من کا سچا سودا ہے

اسے بازار میں بیچا نہیں کرتے

محبت اک نازک سی لڑکی

جسے رلایا نہیں کرتے

محبت کو ضائع نہیں کرتے


فاریہ حمید

No comments:

Post a Comment