یہ اک نشاں ہی مجھے راستہ نہیں دیتا
کہ آسماں ہی مجھے راستہ نہیں دیتا
تِرے حصار سے باہر نکل تو سکتی ہوں
مِرا گماں ہی مجھے راستہ نہیں دیتا
میں ساحلوں پہ یہ کشتی اتار سکتی ہوں
یہ بادباں ہی مجھے راستہ نہیں دیتا
یہ امتحاں ہی تِرے پاس لا رہا ہے مجھے
یہ امتحاں ہی مجھے راستہ نہیں دیتا
میں اس جہان کو اب ابھی سنوار دوں لیکن
کہ یہ جہاں ہی مجھے راستہ نہیں دیتا
تہمینہ راؤ
No comments:
Post a Comment